ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں استعفوں کے معاملے پر اختلافات کی خبریں، اب فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہے؟ نجم سیٹھی نے بتا دیا

اسلام آباد .سینیئرتجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ استعفوں کے معاملےمیں گیند مسلم لیگ(ن) کے کورٹ میں ہے۔

نجم سیٹھی نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جو کہنا تھا کہ دیا اب گیند مسلم لیگ ن کے کورٹ میں ہے،میاں صاحب نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اور مولانا اب استعفے دینے کےلئے تیار ہیں، اور اس کے بعد وہ اسے بھگتیں گے کیسے ، اس پربعد میں بھی بات ہوسکتی ہے،انکا کہنا تھا اگر یہ آج بھی استعفے دیں تو کم از کم ان کے استعفے منظور ہونے میں چار مہینے لگ جائیں گے ۔ایسے میں اگر یہ استعفے دیتے ہیں اور پی پی نہیں دیتی تو یہ بھی پارلیمنٹ میں موجود ہوں گے اور پیپلز پارٹی بھی،پی ٹی آئی بھی بھی بیٹھی ہوگی اور یہ وہاں بھی احتجاج کررہے ہوں گے۔دونوں گیمیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی، یہ اسمبلی اور اسمبلی کے باہر حکومت کو مشکل وقت دے سکتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی اگر ساتھ نہیں چلتی تون لیگ اور مولانا کچھ نہیں کرسکتے،نجم سیٹھی نے کہا میرا یہ خیال ہے کہ سب کچھ ری انگیج کرناپڑے گااور ری انگیج کرنےکا ایرینا سینیٹ ہے، سینیٹ میں بھی دو چار چیزیں ابھی چل رہی ہیں، اس کے بعد پنجاب بھی ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ بھی شاید تبدیل چاہتی ہے،لیکن دیکھنا ہوگا کہ گیلانی صاحب چیئرمین بنتے ہیں کہ نہیں اس کے بعد اپوزیشن لیڈر کون بنتا ہے، پہلے یہ مسلئے حل کرنا ہوں گے،اس کے بعد دیکھنا ہوگا کہ فوکس قومی اسمبلی کی طرف کرنا ہے یاپنجاب کی طرف۔اسوقت بال آصف زرداری نہیں بلکہ نواز شریف کے کورٹ میں ہے۔ آگے کیا ہونا ہے اس کا فیصلہ نواز شریف نے کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں