”آئیں چائے پیتے ہیں “این اے 75 ضمنی انتخاب سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد علی اسجدملہی اور ن لیگی خاتون امیدوارنوشین افتخار کے درمیان دلچسپ مکالمہ

اسلام آباد .سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیا ل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کروانے کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی ہے جس کے بعد عدالت سے باہر پی ٹی آئی رہنما علی اسجد ملہی اور ن لیگی رہنما نوشین افتخار کے درمیان دلچسپ ترین مکالمہ دیکھنے کو ملا ۔

تفصیلات کے مطابق سماعت ملتوی ہونے کے بعد کمرہ عدالت سے باہر علی اسجد ملہی اور نوشین افتخار کے درمیان دلچسپ مکالمہ سننے کو ملا جو کہ رپورٹرز کی نظر میں آ گیا ، این اے 75 میں پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی نے ن لیگی امیدوار نوشین افتخار کو دعوت دی کہ ” آئیں چائے پیتے ہیں ۔‘ ‘ نوشین افتخار نے کہا کہ ہم دوبارہ انتخاب کیلئے تیار ہیں ، الیکشن لڑنا پڑے گا آپ تیار رہیں ۔“

دوران سماعت جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیووالاکلچرختم ہوناچاہیے،ہرکسی کی آتے جاتے،چلتے ہوئے ویڈیوزبنالی جاتی ہیں،کوئی ایک الیکشن بتادیں جہاں ایسے واقعات نہیں ہوئے،بدقستمی سے یہ ہماراالیکشن کلچربن گیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کبھی ووٹ کیا؟وکیل نے جواب دیا کہ جی میں نے ووٹ ڈالاہے،ہماراکلچرہے جب ہارجائیں تودوبارہ الیکشن کاواویلامچادیتے،الیکشن کمیشن خوددلائل اخذکرتاخودہی فیصلہ جاری کردیتا۔عدالت نے کہا کہ حلقے میں ہوائی فائرنگ کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

سلیکٹڈ حکومت ادارے بھی سلیکٹڈ چاہتی ہے ، پیپلزپارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بدنیتی اور انتقام پر مبنی قرار دیدیا
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ انتخابی اخراجات کی تفصیل جانناچاہتے ہیں اور الیکشن کمیشن سے حلقے میں انتخابی اخراجات کی تفصیل طلب کر تے ہوئے سماعت 19 مارچ تک ملتوی کر دی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں