عمران خان کی الیکشن کمیشن کیخلاف چارج شیٹ لیکن کمیشن چاہے تو وزیراعظم کیخلاف کیا کارروائی کرسکتا ہے؟ ایسا انکشاف کہ حکومت خود ہی گھبرا جائے گی

اسلام آباد .سینیٹ کے الیکشن میں اپ سیٹ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں الزام لگایاہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا،الزامات کی بوچھاڑ کی لیکن اگر الیکشن کمیشن چاہے توالزام لگانے والے کسی بھی شخص کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرسکتاہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بنیادی طورپر توہین عدالت کے کیس میں سزا ہونے کی وجہ سے ہی یوسف رضاگیلانی اپنی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔

سینئر تجزیہ نگار حامد میر نے بتایا کہ اگر کوئی انتخابی تنازعہ ہویا الیکشن کا جھگڑاتواس کیلئے آئین کے آرٹیکل 225کے تحت یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل کے سامنے پیش کیا جاتاہے اور وہ فریقین کو سن کر اس پر فیصلہ سناتا ہے، لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا اور آئینی راستہ اپنانے کی بجائے ایک ملک کے وزیراعظم یا کسی بھی شخص کی طرف سے الیکشن کمیشن کے بارے تقریر کردی جاتی ہے تو آئینی ماہرین کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017ءکے سیکشن 10کو دیکھنے کی ضرورت ہے جو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو توہین پر سزا کا اختیار سونپتا ہے ۔

اس سیکشن کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان ( ای سی پی)، ہائیکورٹ کی طرز پر اختیار استعمال کرسکتا ہے اورتوہین پر کسی بھی شخص کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا بھی مجاذ ہے ، وہ توہین عدالت آرڈیننس2003ءیا اس طرح کے دیگر متعلقہ قوانین کا استعمال بھی کرسکتاہے ، الیکشن کمیشن کے پاس ہائیکورٹ کا اختیارہے تو وہ توہین عدالت کااختیار استعمال کرنے کا حق بھی رکھتا ہے ۔
حامد میر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے ای سی پی پر ایک چارج شیٹ ہے ،وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں ایک آئینی ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر دی، الیکشن کمیشن کے پاس ہائی کورٹ کے اختیارات ہیں، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 10 کے مطابق الیکشن کمیشن پر الزامات لگانے والے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں