سینیٹ الیکشن، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر رائے دیدی

اسلام آباد.سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر محفوظ رائے سنا دی،سینیٹ انتخابات سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہوں گے ،عدالت نے کہاہے کہ سینیٹ کے انتخابات آرٹیکل 226 کے تحت ہونگے ،فیصلہ چار ایک سے سنایا گیا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہاہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوتے ہیں،الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ آزادانہ اورشفاف انتخابات کرائے،ووٹ ہمیشہ خفیہ نہیں رہ سکتا،شفاف الیکشن کیلئے الیکشن کمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرے ،تمام ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ تفصیلی وجوہات بعد میں دی جائیں گی۔

خیال رہے سپریم کورٹ نے جمعرات کو سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد رائے محفوظ کرلی تھی۔

سماعت کے دوران وکیل پاکستان بار کونسل منصور عثمان اعوان کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ اگر سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کیا تو اس کا اثر تمام انتحابات پر ہوگا، آئین میں کسی الیکشن کو بھی خفیہ بیلٹ کے ذریعے کروانے کا نہیں کہا گیا، درحقیقت الیکشن کا مطلب ہی سیکرٹ بیلٹ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے سامنے سوال صرف آرٹیکل 226 کے نفاذ کا معاملہ ہے، کیا وجہ ہے کہ انتحابی عمل سے کرپشن کے خاتمے کے لیے ترمیم نہیں کی جا رہی ؟ انتحابی عمل شفاف بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں قراردادیں منظور ہوتی ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اوپن بیلٹ سے متعلق ترمیمی بل پارلیمنٹ میں موجود ہے تو ترمیم میں کیا مسئلہ تھا ؟ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا دور گزرا ترمیم کیوں نہیں کی ؟ پیپلز پارٹی دور میں بھی سینیٹ الیکشن سے متعلق موقع تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں سینیٹ الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کو تسلیم کر رہی ہیں، آپ نے ویڈیوز بھی دیکھی ہیں، کیا آپ دوبارہ وہی کرنا چاہتے ہیں، سب کرپٹ پریکٹس کو تسلیم بھی کر رہے ہیں لیکن خاتمے کے لیے اقدامات کوئی نہیں کر رہا، ہر جماعت شفاف الیکشن چاہتی ہے لیکن بسم اللہ کوئی نہیں کرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں