جمہوریت کی دعویدار مودی حکومت مخالف کسانوں کو دھمکیاں دینے لگی ، لال قلعہ پر پرچم لہرانا ناقابل معافی جرم قرار دے دیا

نئی دہلی .بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نےاپنے روایتی جارحانہ اور آمرانہ انداز خطابت میں کسان مظاہرین کو سخت کارروائی کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دیتے ہوئےکہاہے کہ احتجاج کے دوران لال قلعے پر حملے اور جھنڈے لہرانے والوں نے ملک اور پرچم کی بے حرمتی کی جو کہ ناقابل معافی جرم ہے،ایسے عناصر کو معاف نہیں کریں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریڈیو پر نشر ہونے والے آڈیو پیغام میں وزیراعظم نریندر مودی نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دارالحکومت میں داخل ہونے اور مظاہرین کے لال قلعے پر دھاوا بولنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 26 جنوری کو لال قلعہ پر ترنگے کی بے حرمتی سے پورے ملک کو کافی دکھ ہوا لیکن ہمیں آنے والے وقت کو نئی امید اور نئے طریقے سے ابھرنا ہے ،اس واقعہ سے سارا ملک ہی دکھی ہے۔وزیر اعظم مودی نے واقعے کے چار دن بعد اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ مظاہرین نے بھارتی پرچم کی بے حرمتی کی ہے جس سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوئی ہے، پرچم اور ملک کی بے عزتی کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے،ہمیں آنے والے وقت کو نئی امید اور نئے طریقے سے ابھرنا ہے، ہم نے گزشتہ سال غیر معمولی صبر اور ہمت کا ثبوت دیا، اس سال بھی ہمیں سخت محنت کرکے اپنے عزم کو ثابت کرنا ہے، اپنے ملک کو اور تیز رفتاری سے آگے لے جانا ہے۔

نریندر مودی نے کسان مظاہرین تو درکنار سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی زرعی پالیسی کی خود ساختہ تعریفوں کے پْل باندھ دیئے اور اپنی متنازع پالیسی کا ہرممکن دفاع کرنے کی ناکام کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ مودی سرکار کی کسان دشمن زرعی پالیسی کے خلاف ہزاروں کسان دارالحکومت کی سرحدوں پر تین ماہ سے احتجاجاً بیٹھے تھے تاہم سنوائی نہ ہونے پر وہ یوم جمہوریہ کے دن نئی دہلی میں داخل ہوگئے اور انہوں نے لال قلعہ پر اپنے جھنڈے لہرا دیئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں