موٹروے کیس, ملزمان کیخلاف چالان تیار

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ سال 9 ستمبر کو گجر پورہ کے قریب موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی میں ملوث ملزمان کے خلاف چالان تیار کرلیا گیا ، جو 100 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں 40 گواہان کو شامل کیا گیا ہے جبکہ کیس کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پنجاب حکومت نے کیس کا ٹرائل جیل میں کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔

ہم نیوز کے مطابق گواہان میں متاثرہ خاتون، مقدمے کا مدعی اور ون فائیو پر کال کرنے والا شخص بھی شامل ہے جبکہ سانحے کے وقت موجود تین بچوں کو گواہوں کی لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے مرکزی ملزم عابد ملہی اور شفقت بگا کی شناخت جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پریڈ کے دوران کی اور خاتون کا تین مرتبہ بیان ریکارڈ کیا گیا،ایک مرتبہ پولیس جبکہ دو مرتبہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کروایا۔

چالان کے متن میں بتایا گیا ہے کہ عابد ملہی اور شفقت سے برآمدگی بھی گئی، شفقت کا ڈنڈا بالامستری کے گھر سے برآمد کروایا گیا جبکہ عابد ملہی کی پستول تھانہ فیکٹری ایریا شیخوپورہ کی حدود سے برآمد کروائی گئی، دونوں کے موبائل بھی مل گئے ۔ مجسٹریٹ کو ریکارڈ کروائے گئے دفعہ 164 کے بیان میں شفقت عرف بگا نے بتایا کہ سانحہ کے وقت خاتون کو تین مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایاگیا، خاتون نے جب انکار کیا تو اسکے تین بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی جس کے بعد اس نے خود کو ہمارے حوالے کردیا۔

عابد ملہی نے پولیس کے تفتیشی افسر کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔ عابد ملہی نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ خاتون سے لوٹی ہوئی ایک لاکھ روپے سے زائد رقم روپوشی کے دوران خرچ کردی تاہم خاتون کے سونے کے کڑے اور اے ٹی ایم کارڈ برآمد نہیں کروایا جاسکا، عابد ملہی نے خاتون کو دو مرتبہ جبکہ شفقت نے ایک مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق عابد ملہی کے خون کا قطرہ گاڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے سے ملا، جب اس کا ڈی این کروایا گیا تو وہ فورٹ عباس میں پیش آنے والے 2013 کے واقعے سے میچ کرگیا تھا،اسی مقدمے سے تفتیش کا آغاز ہوا.عابد ملہی اور شفقت کا ڈی این اے بھی متاثرہ خاتون سے میچ کرچکا ہے۔

چالان عدالت میں جمع ہونے کے بعد جیل میں ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ کریں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں