عمر ایوب چائے پانی پر ٹرخا دیتے ہیں، حکومتی اور اتحادی ارکان وزیراعظم کے سامنے پھٹ پڑے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کچھ ارکان گورنرسندھ، صدر پی ٹی آئی کراچی سیف اللہ نیازی، عبدالحفیظ شیخ اور معاشی ٹیم پر پھٹ پڑے۔

نور عالم خان نے وزرا کے احتساب کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ وزیر اعظم کے مشیراور وزیر سبز باغ دکھا رہے ہیں، عبدالحفیظ شیخ 2008 میں بھی یہ ہی باتیں کرتے تھے۔

نجیب ہارون نے کہا کراچی میں کچھ نہیں ہورہا، جھوٹ بولا جارہا ہے، پارٹی میں گروپنگ زیادہ ہوچکی ہے، مفادات کا کھیل چل رہا ہے۔

تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان عمر ایوب پر برس پڑے، بولے وزیر توانائی عمر ایوب چائے پانی پر ٹرخا دیتے ہیں کام نہیں کرتے، بجلی کے محکمے میں سب سے زیادہ کرپشن ہو رہی ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ ایم این ایز کے آپسی مسائل مسئلہ حل نہیں کرنے دیتے، ایک رکن مسئلہ لے کر آتا تو اسی ضلع کا دوسرا رکن اسے سیاسی بنا دیتا ہے، ایسے ماحول میں منتخب نمائندوں کے لیے کام کر کے دینا میرے بس میں نہیں رہتا۔

وزیراعظم اور عمر ایوب واپڈا میں کرپشن کے معاملے پر ارکان کو جواب دینے سے متعلق خاموش رہے۔

اقلیتی رکن جے پرکاش نے کرک مندر اور تھرپارکر پیکج پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھا دیا۔

وزیراعظم نے مندر کا مسئلہ اٹھانے پر جے پرکاش کی تعریف کی اور تھرپارکر پیکج پر عملدرآمد کی ذمہ داری شاہ محمود قریشی کو سونپ دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرک مندر مسمار کرنے والے 150 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بنیادی ذمہ داری ہے، مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

آفتاب جہانگیری نے کراچی کے 3 ہسپتال وفاق کو منتقلی کے معاملے سے متعلق کہا کہ سندھ حکومت ہسپتالوں سے سامان نکال کر دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کر رہی، ایسا نہ ہو کہ وفاقی حکومت کو صرف ہسپتالوں کا سٹرکچر ہی ملے۔

وزیراعظم نے فیصل سلطان کو معاملہ جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔ فیصل سلطان نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی بنا رہے ہیں، جلد تینوں ہسپتال وفاق کو منتقل ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں