کراچی ٹیسٹ جوئے کی ویب سائٹ پر لائیو سٹریم ہونے لگا، کون سی سپانسر کمپنی نے یہ کام کیا؟ تمام تفصیلات سامنے آ گئیں

کراچی .پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان نیشنل سٹیڈیم کراچی میں جاری ٹیسٹ میچ کی جوئے کی ویب سائٹ پر لائیو سٹریم ہونے لگی جبکہ یہ سیریز کے ایک سپانسر ادارے کی ہی دوسری ویب سائٹ ہے جس پرمیچ پر شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری کراچی ٹیسٹ ایک جوئے کی ویب سائٹ پر بھی لائیو سٹریم ہو رہا ہے جہاں لوگوں کوشرطیں لگانے کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے جبکہ پاکستانیوں کو بھی اس ویب سائٹ تک باآسانی رسائی حاصل ہے اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے استعمال کے بغیر ہی پاکستان میں اس ویب سائٹ پر وزٹ کیا جا سکتا ہے۔

سیریز کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ایک سپانسر کمپنی sky247.net ہے، میدان اور ڈریسنگ روم کے باہر بھی اس کا لوگو لگا ہوا ہے اور اگر اس سائٹ کا وزٹ کریں تو اسی ادارے کی بیٹنگ کی ویب سائٹ sky247.com کا لنک بھی موجود ہے،وہاں کلک کرنے سے جوئے کی سائٹ کھل جاتی ہے جہاں لائیو میچ پر شرطیں وصول کی جا رہی ہیں،ویڈیو کے بائیں جانب پی سی بی کا لوگو تک موجود ہے۔

اس حوالے سے رابطے پر پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمع الحسن برنی نے کہا کہ پاکستانی قوانین کے تحت بیٹنگ اور الکوحل کی کمپنیز کرکٹ ایونٹس کو سپانسر نہیں کر سکتیں، پی سی بی کے تمام کمرشل کنٹریکٹس میں یہ شق شامل ہوتی ہے کہ رائٹس ہولڈر کمپنی تمباکو، الکوحل ملے مشروبات، بیٹنگ/گیمبلنگ یا کسی اور ایسی چیز کی تشہیر نہیں کر سکتے جوپاکستانی عوام کے مذہبی یا کلچرل حساسیت کے خلاف ہو۔

انہوں نے کہا کہsports247.net نیوز ویب سائٹ ہے جو پرتگال کی ایک کمپنی چلاتی ہے، یہی ادارہ ابوظہبی ٹی 10 لیگ ، متحدہ عرب امارات (یو ای اے) اور آئرلینڈ کی سیریز کا بھی سپانسر ہے جبکہ پاکستان کی طرح اماراتی قانون بھی جوئے کی اجازت نہیں دیتا۔ جب ان کے ساتھ لائیو سٹریمنگ کی ویڈیو شیئر کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ غیرقانونی طور پر ہو رہا ہے، ہم بدھ کو دوسرے دن کا کھیل مانیٹر کریں گے اور سخت ایکشن لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز بھی ایک جوئے کی ویب سائٹ پر لائیو سٹریم ہوئے تھے اور پی سی بی کا اس حوالے سے موقف تھا کہ کمرشل پارٹنر نے بغیر اجازت لئے بیٹنگ ویب سائٹ سے معاہدہ کیا، اس پر سخت ایکشن لیا جائے گا، کچھ عرصے بعد معافی پر معاملہ ختم ہو گیا مگر پھر مالی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر بورڈ نے مذکورہ کمپنی سے معاہدہ ختم کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں